ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایک بار پھر آپریشن کمل دھرانے بی جے پی کی تیاری، کانگریس اور جے ڈی ایس کے برگشتہ اراکین کو نشانہ بنانے کی کوشش

ایک بار پھر آپریشن کمل دھرانے بی جے پی کی تیاری، کانگریس اور جے ڈی ایس کے برگشتہ اراکین کو نشانہ بنانے کی کوشش

Sat, 11 Aug 2018 11:44:07    S.O. News Service

بنگلورو،11؍اگست(ایس او نیوز) ریاست میں کانگریس جنتادل (ایس) مخلوط حکومت کو گرانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہوئے بی جے پی نے ایک بار پھر آپریشن کمل کو آگے بڑھانے کی پہل کردی ہے۔

ریاستی کابینہ میں توسیع میں کی جارہی تاخیر سے ناراض بعض کانگریس اراکین اسمبلی کی طرف سے دی جارہی دھمکیوں کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے ان برگشتہ اراکین کو اپنی طرف راغب کرنے کی جدوجہد آگے بڑھاتے ہوئے ان میں سے چندکے ساتھ باقاعدہ بات چیت بھی کی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ایک درجن سے زیادہ کانگریس اراکین اسمبلی سے بی جے پی قیادت نے بات چیت کی ہے۔ نہ صرف کانگریس بلکہ جنتادل (ایس) کے اراکین اسمبلی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ مخلوط حکومت کی کارکردگی سے پہلے ہی کانگریس کے اراکین اسمبلی ناراض ہیں، سرکاری افسروں کے تبادلوں ، ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کے لئے گرانٹس کی فراہمی اور دیگر امور میں کانگریس اراکین اسمبلی کو اعتماد میں نہ لئے جانے کی شکایات کی جارہی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی کی طرف سے متبادل حکومت کے قیام کی صورت میں برگشتہ اراکین کو وزارت اور دوبارہ منتخب ہونے میں مالی مدد کی پیش کش انہیں بی جے پی اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔لوک سبھا انتخابات سے قبل ہی کسی طرح آپریشن کمل انجام دے کر انتخابات کے مرحلے میں ریاست میں بی جے پی حکومت قائم کرنے کی کوشش شدت کے ساتھ آگے بڑھائی جارہی ہے۔

اس کے لئے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا اور دیگر قائدوں کی طرف سے بارہا دہلی کے دورے کئے جارہے ہیں۔ دوسری طرف اراکین اسمبلی کی برگشتگی کو لے کر کانگریس میں بھی تشویش بڑھ چکی ہے، اسی لئے اعلیٰ کمان کی طرف سے زور دیا جارہاہے کہ جلد از جلد کابینہ کی خالی سیٹوں کو پر کیاجائے۔ اور کسی بھی حال میں برگشتہ اراکین کو بی جے پی کا شکار بننے کا موقع نہ دیا جائے۔ حلقوں کی ترقی کے لئے فنڈوں کی فراہمی کے معاملے میں جو بھی شکایت ہو اسے دور کرنے کے لئے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور اور رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا کو ضروری ہدایت اعلیٰ کمان کی طرف سے جاری کی گئی ہے، اور ساتھ ہی متنبہ کیاگیا ہے کہ ریاست میں مخلوط حکومت اگر کمزور پڑی تو اس کے لئے سرکردہ لیڈروں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ تین دن قبل ہی بعض سابق وزراء اور اراکین اسمبلی کی طرف سے بنگلور میں میٹنگ کا اہتمام کیا گیا اور کانگریس قیادت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ فوری طور پر اگر ریاستی کابینہ میں توسیع نہیں ہوئی تو انہیں متبادل راستے تلاش کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑ سکتاہے۔ ان اراکین اسمبلی نے یہ بھی تنبیہ کی کہ اگر ریاستی کابینہ میں توسیع کے متعلق جلد فیصلہ نہیں لیاگیا تو وہ پارٹی کی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو دور کرلیں گے اور صرف اپنے حلقوں تک محدود رہ جائیں گے۔ اراکین اسمبلی کا یہ رویہ پارٹی کے لئے درد سر بن گیا ہے۔


Share: